زندگی کا نشہ اترنے دے
By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
زندگی کا نشہ اترنے دے
دل میں اک درد سا ابھرنے دے
موت کو پھر گلے لگائیں گے
زیست سے پہلے جی تو بھرنے دے
پیار کی اور حسن کی باتیں
خواب ہیں خواب کو بکھرنے دے
جس میں خوشیاں بھی غم بھی ہوں ساقیؔ
زیست کو اس طرح گزرنے دے
دل میں اک درد سا ابھرنے دے
موت کو پھر گلے لگائیں گے
زیست سے پہلے جی تو بھرنے دے
پیار کی اور حسن کی باتیں
خواب ہیں خواب کو بکھرنے دے
جس میں خوشیاں بھی غم بھی ہوں ساقیؔ
زیست کو اس طرح گزرنے دے
52758 viewsghazal • Urdu