زندگی کو کھا رہی ہے زندگی
By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
زندگی کو کھا رہی ہے زندگی
موت کو شرما رہی ہے زندگی
ایک چھوٹی سی مسرت کے لیے
لاکھ چوٹیں کھا رہی ہے زندگی
ہو رہے ہیں اس کے ہم جتنے قریب
دور اتنی جا رہی ہے زندگی
دیکھ کر روتے ہوئے انسان کو
مسکراتی جا رہی ہے زندگی
کل تلک یہ پھول تھی اور آج کل
خار ہوتی جا رہی ہے زندگی
آ گئی ساقیؔ جنوں میں آج کل
عرش سے ٹکرا رہی ہے زندگی
موت کو شرما رہی ہے زندگی
ایک چھوٹی سی مسرت کے لیے
لاکھ چوٹیں کھا رہی ہے زندگی
ہو رہے ہیں اس کے ہم جتنے قریب
دور اتنی جا رہی ہے زندگی
دیکھ کر روتے ہوئے انسان کو
مسکراتی جا رہی ہے زندگی
کل تلک یہ پھول تھی اور آج کل
خار ہوتی جا رہی ہے زندگی
آ گئی ساقیؔ جنوں میں آج کل
عرش سے ٹکرا رہی ہے زندگی
59619 viewsghazal • Urdu