(2)
By میر-تقی-میرJanuary 3, 2024
واں ان نے دل کیا ہے مانند سنگ خارا
یاں تن ہوا ہے پانی ہوکر گداز سارا
کیا پوچھتا ہے ہمدم احوال تو ہمارا
نے رمز نے کنایہ ایما ہے نے اشارہ
اس کے تغافلوں نے ان روزوں ہم کو مارا
ہو شہر یا کہ صحرا بارے مکان تو ہو
غم میں نہ ہووے کچھ تو اک تن میں جان تو ہو
حالت تغیر ہوکر منھ میں زبان تو ہو
سو بار دیکھ صورت ہو مہربان تو ہو
اپنے تئیں نہیں ہے اب گفتگو کا یارا
یہ چشم تھی کہ ترکاں اکثر سوار ہوں گے
ہم لوگ ان کی رہ کے گرد و غبار ہوں گے
یہ جانتے نہ تھے ہم اس طور خوار ہوں گے
اب کہتے ہیں کہ یارب کیوں کر دوچار ہوں گے
اس بھی طرف کو ہوگا ان کا کبھی گذارا
ہجراں میں ٹک نہ پرچے کوہ اور راغ میں ہم
بوے وفا نہ پائی دل میں دماغ میں ہم
مدت رہے اگرچہ گلگشت باغ میں ہم
پرلطف کچھ جو دیکھا سینے کے داغ میں ہم
اس بن جو گل چنے تھے ان کا کیا نظارہ
تشنے ہیں اپنے خوں کے اے ہمدمو نہ آؤ
ہووے طبیب گر خضر اس کو بھی یاں نہ لاؤ
اب ٹھانی ہم سو ٹھانی گو اس میں جان جاؤ
آب برندہ اس کی شمشیر کا پلاؤ
آب حیات اپنے جی کو نہیں گوارا
تنگ اس قدر نہیں ہیں اس زندگی سے ہم اب
جو آرزو کریں پھر اٹھنے کی حشر کو تب
ہونٹوں پہ یہ دعا ہے ہر روز اور ہر شب
یک حرف کاشکے ہو روز جزا بھی یارب
کس کو دماغ اتنا جو پھر جیے دوبارہ
ہوش و دل اور ایماں یہ تو گئے تھے سارے
موجب تو زندگی کا کوئی نہ تھا پیارے
تجھ سے کہیں سو کیا اب کہہ ہم ستم کے مارے
آنسو سے پونچھتا تھا کچھ جو کبھو ہمارے
سو صبر ظلم دیدہ کل رات سے سدھارا
اب دل اٹھا تو منعم تعمیر خانماں سے
کیا فائدہ رہا ہے گر کچھ نشاں مکاں سے
رہنے تجھی کو دیں گے جانا گیا کہاں سے
آواز بھی نہ آئی اک در جواب واں سے
کسریٰ کے در پہ جاکر کل میں بہت پکارا
موت اس کے ہاتھ سے ہو اس سے تو کیا ہے بہتر
پر جی میں حسرتیں ہیں بن آئی ہے یہ جی پر
غیروں سے ٹک کہو یہ کاے مدعیو اکثر
تلوار اس کو دے کر بھیجا کرو نہ ایدھر
جی جائے ہے ہمارا کیا جائے ہے تمھارا
اب وہ نہیں کہ ہر سو طوفان کا خطر ہے
یا میرؔ سیل آیا ابر سیاہ تر ہے
مت پوچھ رود کوئی آتا جو یاں نظر ہے
اس گریے ہی کا اب تک کچھ کچھ کہیں اثر ہے
دریا نے تو جہاں سے کب کا کیا کنارہ
یاں تن ہوا ہے پانی ہوکر گداز سارا
کیا پوچھتا ہے ہمدم احوال تو ہمارا
نے رمز نے کنایہ ایما ہے نے اشارہ
اس کے تغافلوں نے ان روزوں ہم کو مارا
ہو شہر یا کہ صحرا بارے مکان تو ہو
غم میں نہ ہووے کچھ تو اک تن میں جان تو ہو
حالت تغیر ہوکر منھ میں زبان تو ہو
سو بار دیکھ صورت ہو مہربان تو ہو
اپنے تئیں نہیں ہے اب گفتگو کا یارا
یہ چشم تھی کہ ترکاں اکثر سوار ہوں گے
ہم لوگ ان کی رہ کے گرد و غبار ہوں گے
یہ جانتے نہ تھے ہم اس طور خوار ہوں گے
اب کہتے ہیں کہ یارب کیوں کر دوچار ہوں گے
اس بھی طرف کو ہوگا ان کا کبھی گذارا
ہجراں میں ٹک نہ پرچے کوہ اور راغ میں ہم
بوے وفا نہ پائی دل میں دماغ میں ہم
مدت رہے اگرچہ گلگشت باغ میں ہم
پرلطف کچھ جو دیکھا سینے کے داغ میں ہم
اس بن جو گل چنے تھے ان کا کیا نظارہ
تشنے ہیں اپنے خوں کے اے ہمدمو نہ آؤ
ہووے طبیب گر خضر اس کو بھی یاں نہ لاؤ
اب ٹھانی ہم سو ٹھانی گو اس میں جان جاؤ
آب برندہ اس کی شمشیر کا پلاؤ
آب حیات اپنے جی کو نہیں گوارا
تنگ اس قدر نہیں ہیں اس زندگی سے ہم اب
جو آرزو کریں پھر اٹھنے کی حشر کو تب
ہونٹوں پہ یہ دعا ہے ہر روز اور ہر شب
یک حرف کاشکے ہو روز جزا بھی یارب
کس کو دماغ اتنا جو پھر جیے دوبارہ
ہوش و دل اور ایماں یہ تو گئے تھے سارے
موجب تو زندگی کا کوئی نہ تھا پیارے
تجھ سے کہیں سو کیا اب کہہ ہم ستم کے مارے
آنسو سے پونچھتا تھا کچھ جو کبھو ہمارے
سو صبر ظلم دیدہ کل رات سے سدھارا
اب دل اٹھا تو منعم تعمیر خانماں سے
کیا فائدہ رہا ہے گر کچھ نشاں مکاں سے
رہنے تجھی کو دیں گے جانا گیا کہاں سے
آواز بھی نہ آئی اک در جواب واں سے
کسریٰ کے در پہ جاکر کل میں بہت پکارا
موت اس کے ہاتھ سے ہو اس سے تو کیا ہے بہتر
پر جی میں حسرتیں ہیں بن آئی ہے یہ جی پر
غیروں سے ٹک کہو یہ کاے مدعیو اکثر
تلوار اس کو دے کر بھیجا کرو نہ ایدھر
جی جائے ہے ہمارا کیا جائے ہے تمھارا
اب وہ نہیں کہ ہر سو طوفان کا خطر ہے
یا میرؔ سیل آیا ابر سیاہ تر ہے
مت پوچھ رود کوئی آتا جو یاں نظر ہے
اس گریے ہی کا اب تک کچھ کچھ کہیں اثر ہے
دریا نے تو جہاں سے کب کا کیا کنارہ
23913 viewsmukhammas • English