وہ جو تجھ سے پہلے کا ذکر تھا
By akhtar-husain-jafriJanuary 18, 2024
وہ جو تجھ سے پہلے کا ذکر تھا
وہ جو تجھ سے پہلے کی راہ تھی
کہیں صبح ذات لٹی ہوئی
کہیں شام عشق بجھی ہوئی
کہیں دوپہر رہ ماندگاں پہ تنی ہوئی
کہیں چاند پچھلے وصال کے
کہیں مہر صبح کمال کے
کہیں زلف وصل مزاج پر تہ گرد ہجر جمی ہوئی
کہیں آس تھی کہیں پیاس تھی
کہیں خشک حلق میں تیر تھا
کہیں سائبان جلا ہوا کہیں بادبان میں چھید تھا
کوئی راز تھا کوئی بھید تھا
جسے مخبروں جسے تاجروں نے رقم کیا
تو کتاب میں
مرا حکم میرے خلاف تھا
میرا عدل میری نظیر تھا سو حقیر تھا
مرا بادشہ بھی فقیر تھا
یہ جو تیرے ہونے کا ذکر ہے
جو ترے ظہور کی بات ہے
مری بات ہے
مرا عشق ہے مرا درد ہے
مرے حرف و صوت کی ذات ہے
مری راہ پر مری چھاؤں ہے
مرے ہات میں مرا ہات ہے
وہ جو تجھ سے پہلے کی راہ تھی
کہیں صبح ذات لٹی ہوئی
کہیں شام عشق بجھی ہوئی
کہیں دوپہر رہ ماندگاں پہ تنی ہوئی
کہیں چاند پچھلے وصال کے
کہیں مہر صبح کمال کے
کہیں زلف وصل مزاج پر تہ گرد ہجر جمی ہوئی
کہیں آس تھی کہیں پیاس تھی
کہیں خشک حلق میں تیر تھا
کہیں سائبان جلا ہوا کہیں بادبان میں چھید تھا
کوئی راز تھا کوئی بھید تھا
جسے مخبروں جسے تاجروں نے رقم کیا
تو کتاب میں
مرا حکم میرے خلاف تھا
میرا عدل میری نظیر تھا سو حقیر تھا
مرا بادشہ بھی فقیر تھا
یہ جو تیرے ہونے کا ذکر ہے
جو ترے ظہور کی بات ہے
مری بات ہے
مرا عشق ہے مرا درد ہے
مرے حرف و صوت کی ذات ہے
مری راہ پر مری چھاؤں ہے
مرے ہات میں مرا ہات ہے
20824 viewsnazm • Urdu