ہے تو ہے

By ata-ur-rahman-tariqJanuary 19, 2024
چپہ چپہ گھوم کر آنے کی حسرت ہے تو ہے
دوستو مریخ پر جانے کی حسرت ہے تو ہے
جو نہیں پایا اسے پانے کی حسرت ہے تو ہے
دل ہے دیوانہ یہ دیوانے کی حسرت ہے تو ہے


باغ سے ٹلتا نہیں کمبخت مالی ہائے ہائے
توڑ کر خوبانیاں کھانے کی حسرت ہے تو ہے
دھول دھپا موج مستی شوخیاں اٹکھیلیاں
اپنا کاروبار پھیلانے کی حسرت ہے تو ہے


شام کو ملنا ذرا فٹ بال کے میدان میں
معرکہ پھر کوئی گرمانے کی حسرت ہے تو ہے
داد اپنے فن کی طارقؔ دے پڑوسی یا نہ دے
چھت پہ آدھی رات کو گانے کی حسرت ہے تو ہے


52429 viewsnazmUrdu