خاک اور خون

By bazm-ansariJanuary 19, 2024
اے مری مونس غم اے مری پرسان مزاج
تو نے افسردگئ دل کا سبب پوچھا ہے
کیا بتاؤں تجھے کس سوچ میں ہے قلب حزیں
کیا سناؤں کہ مری آنکھ نے کیا دیکھا ہے


خاک اور خون کے غم ناک مناظر توبہ
کس قدر ضبط شکن جلوہ گہہ دنیا ہے
حسرتیں خاک میں ملتی ہوئی دیکھیں کیا کیا
کتنی معصوم تمناؤں کا خوں دیکھا ہے


آہ وہ گل جو نہ تھے نیم شگفتہ بھی ہنوز
دفعتاً باد خزاں نے جنہیں آ روندا ہے
کتنا بے مایہ ہے اس دور میں انساں کا لہو
کتنا مجبور ہے انسان کبھی سوچا ہے


اک طرف گردش حالات زمانہ ہے مرے
اک طرف تیرا یہ اصرار کہ خوش رہنا ہے
شدت حس مجھے مجروح کیے جاتی ہے
زندگی ہے کہ نئے زخم دئے جاتی ہے


اے مری مونس غم اے مری پرسان مزاج
تو نے افسردگئ دل کا سبب پوچھا ہے
66067 viewsnazmUrdu