ہچکی

By ananth-faaniJanuary 19, 2024
تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتی
ہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتی
چراغ شرما
کبھی بھی کیا سوچا ہے یہ تم نے


کہ جو ہے لہروں کا یوں مچلنا
ندی کا ساگر کی سمت چلنا
درخت کا بیج سے نکلنا
ہر ایک پل وقت کا بدلنا


یہ روز دن رات کا گزرنا
نہ ایک موسم کا بھی ٹھہرنا
اجالے دوڑے جو جا رہے ہیں
کہیں اندھیرے مٹا رہے ہیں


جو سالوں سالوں لگے ہوئے ہیں
سفر میں اب تک ڈٹے ہوئے ہیں
ستاروں سیاروں سب کی گردش
انہیں سمجھنے کی اپنی خواہش


دلوں کے دھڑکن کی ابتدا بھی
تمام منظر کی انتہا بھی
یہ سلسلہ سارا
سب تسلسل میں ہے جو


ہر کچھ
کسی کی ہچکی کا ہے نتیجہ
کہ یاد کرتا ہو کوئی بیتے زمانے کو
کائنات بھر میں


کہ جب نہیں تھا کچھ
اس سے پہلے
جو تھا وہ کیا تھا
وہ کیسا تھا


کیا وہ ایسا تھا
جیسا ہے ابھی سب
اک عرصے سے مجھ کو ہچکی آئی نہیں ہے
تم تو رہے مجھے یاد کرنے سے


آئینے کو تکتا ہوں روز
خود کو ہی یاد آ جاؤں میں کبھی تو
اور ایک ہچکی نکل پڑے پھر
73712 viewsnazmUrdu