یاد ماضی

By abdul-qayyum-zaki-aurangabadiFebruary 25, 2024
وہ عہد گزشتہ کا دل کش فسانہ
گیا چھوٹ ہم سے وہ رنگیں زمانہ
امنگیں جوانی کی وہ والہانہ
کسی شوخ کا ہائے وہ آنا جانا


وہ ہنس ہنس کے بجلی گرانا کسی کا
جمال منور دکھانا کسی کا
وہ چھپ چھپ کے گلشن میں آنا کسی کا
وہ نظروں سے بجلی گرانا کسی کا


بگڑ کر وہ آنکھیں دکھانا کسی کا
شرارت سے مجھ کو گرانا کسی کا
کبھی روٹھ جانا کبھی من بھی جانا
کبھی منہ چڑانا کبھی مسکرانا


وہ مخمور آنکھیں وہ حسن جوانی
ٹپکتی ہو جس سے مئے ارغوانی
وہ دل کش نگاہیں وہ شیریں بیانی
وہ لطف مسلسل شب شادمانی


وہ پر لطف صحبت وہ پر کیف نغمے
ابلتے تھے جس سے مسرت کے چشمے
وہ سینے سے مجھ کو لگانا کسی کا
شرارت سے وہ گدگدانا کسی کا


وہ غصہ کی صورت بنانا کسی کا
وہ منہ پھیر کر مسکرانا کسی کا
شب ماہ میں ہائے وہ دور ساغر
وہ ساقی کا رنگیں جمال منور


وہ ترچھی نگاہیں وہ رنگیں ادائیں
کہ بد مست ہو جائیں جن سے فضائیں
وہ ابر محبت کی دل کش گھٹائیں
زکیؔ اب کہاں عہد رنگیں وہ پائیں


32280 viewsnazmUrdu