عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟
ہر ایک چہرے سے ظاہِر ملال ہے کہ نہِیں؟

تمام چِیزوں کی قِیمت بڑھائی جاتی رہی
غرِیب مارنے کی اِس میں چال ہے کہ نہِیں؟

پہُنچ سے پہلے ہی باہر تھا عیش کا ساماں
فلک کے پاس ابھی آٹا، دال ہے کہ نہِیں؟

جو برق مہِنگی بتاتا بِلوں کو پھاڑتا تھا
کُچھ اپنے عہد میں اِس کا خیال ہے کہ نہِیں؟

ہمارے جِسم سے نوچا ہے گوشت، خُوں چُوسا
ابھی یہ دیکھنے آیا ہے کھال ہے کہ نہِیں؟

وہ جِس کے عہد میں ماں باپ بیچ دیں بچّے
تُمہیں کہو کہ یہ وجہِ وبال ہے کہ نہِیں؟

ٹھٹھر کے سرد عِلاقوں میں مر رہے ہیں لوگ
زُباں سے پُھوٹو تُمہیں کُچھ مجال ہے کہ نہِیں؟

کِیا تھا عہد بحالی کا، چِھین لی روٹی
غرِیب کے لِیئے جِینا مُحال ہے کہ نہِیں؟

نمُونہ سامنے رکھتے ہیں ہم خلِیفوں کا
تُمہارے سامنے کوئی مِثال ہے کہ نہِیں؟

دِکھائے باغ ہرے ہم غرِیب لوگوں کو
عوام پہلے سے مخدُوش حال ہے کہ نہِیں؟

امیرِ شہر نے آنکھیں رکھی ہیں بند رشِیدؔ
وگرنہ چہرہ طمانچوں سے لال ہے کہ نہِیں؟

رشِید حسرتؔ

تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں




تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں
اپنی انا کو پست کریں یا نہِیں کریں

اِک شب کا ہے قیام رہو تُم ہمارے ساتھ
کھانے کا بند و بست کریں یا نہِیں کریں

شوہر بِچارے سوچ میں ڈُوبے ہُوئے ہیں آج
بِیوی کو زیرِ دست کریں یا نہِیں کریں

اعصاب کی شکست کو عرصہ گُزر گیا
پِھر سے عدم کو ہست کریں یا نہِیں کریں

دِل یہ صنم تراش بھی ہے بُت شِکن بھی ہے
اِس کو خُدا پرست کریں یا نہِیں کریں

لکھا ہؤا ہے سال وِلادت کا اور کُچھ
اِس کو بدل کے شست کریں یا نہِیں کریں

تُم نے کہا تھا مارچ میں لوٹاؤ گے اُدھار
اب فیصلہ اگست کریں یا نہِیں کریں

چھوڑا ہے اُس نے بِیچ میں کسنے کو اِک خلا
اب فِقرہ کوئی جست کریں یا نہِیں کریں

حسرتؔ ہے وجد کیف مگر چُپ لگی ہُوئی
کہیے کہ مست الست کریں یا نہِیں کریں

رشید حسرتؔ

تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب

تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب
بے روزگار گھر سے نِکالا گیا تھا جب

ناکامیوں نے مُجھ میں بڑی توڑ پھوڑ کی
محرُومیوں کی گود میں ڈالا گیا تھا جب

اُس نے تو صاف آنے سے اِنکار کر دیا
احقر منانے، حضرتِ اعلا! گیا تھا جب

تب اُس کی ضِد میں تھا کہ نہ تھا مُمکِنات میں
بچّے کی طرح ڈانٹ کے ٹالا گیا تھا جب

اُس دِن سے یہ وجُود اندھیروں کی زد میں ہے
مُجھ کو اکیلا چھوڑ اُجالا گیا تھا جب

اپنی زبان کاٹ کے جانا پڑا مُجھے
اِک فرد ساتھ بولنے والا گیا تھا جب

تب تک مِرا وجُود ہی گل بھی چکا حُضور
مُدّت کے بعد آ کے سنبھالا گیا تھا جب

اُس کے گلے میں غیر کی بانہوں کے ہار تھے
لے کر خلُوص و پیار کی مالا گیا تھا جب

اب ہیں سمیٹنے میں تُمہیں ہِچکِچاہٹیں
تب کیوں نہ تِھیں رشؔید کو گالا گیا تھا جب

رشید حسرتؔ

اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا

اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا

میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی
اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا

کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے
سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا

میں بڑا مُجرم ہُوں مُجھ کو ضابطوں کا ہے خیال
ہتھکڑی اِک سنتری پہنائے گا، لے جائے گا

میری چِیزوں میں سے اُس کو جو پسند آیا کبھی
چِھین لے گا چِیز پِھر مُسکائے گا، لے جائے گا

شاعری رکھ دی ہے میں نے کم نظر لوگوں کے بِیچ
دوستو وہ مِہرباں بھی آئے گا، لے جائے گا

اپنی بِیوی کے بِنا کِس کا گُزارا ہے یہاں
دیکھنا، داماد جی پچھتائے گا، لے جائے گا

سر میں چاندی تار لے کر ایک لڑکی نے کہا
کیا کوئی اب بھی مُجھے اپنائے گا، لے جائے گا؟؟

دیکھنا کُوڑے میں سڑتا باسی کھانا بھی رشِیدؔ
ننھا سا مجبُور بچّہ کھائے گا، لے جائے گا

رشِید حسرتؔ

اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا

اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا

میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی
اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا

کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے
سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا

میں بڑا مُجرم ہُوں مُجھ کو ضابطوں کا ہے خیال
ہتھکڑی اِک سنتری پہنائے گا، لے جائے گا

میری چِیزوں میں سے اُس کو جو پسند آیا کبھی
چِھین لے گا چِیز پِھر مُسکائے گا، لے جائے گا

شاعری رکھ دی ہے میں نے کم نظر لوگوں کے بِیچ
دوستو وہ مِہرباں بھی آئے گا، لے جائے گا

اپنی بِیوی کے بِنا کِس کا گُزارا ہے یہاں
دیکھنا، داماد جی پچھتائے گا، لے جائے گا

سر میں چاندی تار لے کر ایک لڑکی نے کہا
کیا کوئی اب بھی مُجھے اپنائے گا، لے جائے گا؟؟

دیکھنا کُوڑے میں سڑتا باسی کھانا بھی رشِیدؔ
ننھا سا مجبُور بچّہ کھائے گا، لے جائے گا

رشِید حسرتؔ

تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا

تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا
رہا وہ گھر میں مِرے پر مِرے خِلاف رہا

خبر نہِیں کہ تِرے من میں چل رہا یے کیا؟
تِری طرف سے مِرا دِل ہمیشہ صاف رہا

بجا کہ رُتبہ کوئی عین قاف لام کا ہے
بلند سب سے مگر عین شِین قاف رہا

مُجھے گُماں کہ کوئی مُجھ میں نقص بھی ہو گا؟
رہا نقاب میں چہرہ، تہہِ غِلاف رہا

کبھی تھا بِیچ میں پریوں کے، اب جِنوں کے بِیچ
یہ شہر میرے لیئے گویا کوہ قاف رہا

وُہ شخص جِس کو سُکوں میرے بِن نہ آتا کہِیں
نہِیں تھا میرا، نیا ایک اِنکشاف رہا

خُدا کرے کہ وفا کا بھرم رہے قائم
مُعاملہ تھا بڑا صاف اور صاف رہا

میں اپنے فن کا پُجاری ہوں دُوسروں کا نہِیں
بڑا ہے وہ کہ جِسے سب کا اعتراف رہا

رشِیدؔ کوسا کِیا میں یہاں مُقدّر کو
وہاں چُھپا ہؤا سِینے میں اِک شِگاف رہا

رشِید حسرتؔ

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close