جلتے ہوئے چراغ کی لو سے بجھا ہوں میں ...
حرص دنیا جو تری آنکھ کا تارا ہوا ہے ...
دل سے افرنگ ہو گیا ہوں میں ...
درون ذات تری دسترس میں آئے بغیر ...
اب جو دینا ہے مرے دوست محبت دینا ...
الجھی ہوئی لکیروں کا یہ جال دیکھ کر ...
شک میں جکڑے سے سوالات کہاں جانتے ہیں ...
پلکیں ہیں قافیے تری آنکھیں ردیف ہیں ...
کتاب آنکھیں فسانہ چہرہ غزل نگاہیں حسین مکھڑا ...
ہمارے گھاؤ کبھی ہم کو بھی دکھائی دیں ...
چاند چھونے کے تصور سے مچل جاتا ہوں ...
منحصر صبح سے یہ شام کہیں بہتر ہے ...
مری یہ زندگی حد سے زیادہ کیا ہوگی ...
میرے ہم سایے کو مجھ سے جی چرانا آ گیا ...
کیسے خود ہی کہوں کہ کیا ہوں میں ...
جسم سے ساری رسم کرتے ہیں ...
جب مجھے موت آ رہی ہوگی ...
اک ندی بس مجھے خوشی دے گی ...
ایک کمرا غزل کتابیں غم ...
ایک دھوکہ ہے خوش نہیں ہوں میں ...