اس نے تو یوں ہی پوچھ لیا تھا کہ کوئی ہے
میں ترے شوخ لبوں پر تو ابھی آیا ہوں
خودکشی کا فیصلہ یہ سوچ کر ہم نے کیا
کھینچ لائی جانب دریا ہمیں بھی تشنگی
جب یہاں رہنے کے سب اسباب یکجا کر لئے
چاہیں تو اس کو تیغ خموشی سے کاٹ دیں
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
ہے بادہ گساروں کو تو میخانے سے نسبت
اپنی آشفتہ مزاجی پہ ہنسی آتی ہے
پھرتے ہیں اب بھی دل کو گریباں کیے ہوئے ...
سنو جانا ...
عمر بھر پیکر احساس میں ڈھالے نہ گئے ...
سکوت جسم کا احساس جس پیکر پہ رکھا تھا ...
پہلے اک پردہ ہمارے سامنے ڈالا گیا ...
محبتوں کی شاخ پہ جو کھل رہا گلاب ہے ...
مزاج رکھتے ہو شاعرانہ تو پاس آنا ...
موسم گریۂ سرشار میں رو پڑتے ہیں ...
مسخ الفاظ کو جیسے ہو معانی درکار ...
کرب ہے سوز ہے گرانی ہے ...
کہنی ہے کوئی بات تو مجھ سے کہا کریں ...