چپہ چپہ گھوم کر آنے کی حسرت ہے تو ہے ...
پتے نئے خوشبو نئی ...
تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتی ...
وہ جو تجھ سے پہلے کا ذکر تھا ...
مآل اہل زمیں بر سر زمیں آتا ...
ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے ...
فائدہ کیا ہے ہمیں اور خسارہ کیا ہے ...
دل سلگ اٹھتا ہے اپنے بام و در کو دیکھ کر ...
پھر سے کہنا کیا سمجھے ہو ...
میں نے جس کو بھلایا ہوا ہے ...
کب تلک استخارہ کریں ...
بھلا اب اور کہاں زندگی نظر آئے ...
بندگی ہوگی موت سے پہلے ...
اب کسی پر نظر نہیں جاتی ...
اب اس کے بعد کوئی راستہ نہیں ...
زمانے پر عیاں میرا ہنر ہونے نہیں دیتا ...
یہ الگ بات کہ فرصت بھی نہیں ملتی ہے ...
وہ تصور میں تو آتا ہے چلا جاتا ہے ...
ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گا ...
سامنے تیز ہواؤں کے جو اڑ جائے گا ...