بردباری

Shayari By

ایک نیک بادشاہ رات کو بھیس بدل کر پھرا کرتا تھا کہ لوگوں کا اصلی حال دیکھ کر جہاں تک ہو سکے، ان کی تکلیفیں دور کر دیا کرے۔
جاڑے کے موسم میں وہ ایک رات شہر کے باہر کسی ویران مکان کے پاس سے جا رہا تھا ہ دو آدمیوں کے بولنے کی آواز آئی۔ کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کہہ رہا تھا ’’لوگ بادشاہ کو خدا ترس تو کہتےہیں، مگر یہ کہاں کی خدا ترسی ہے کہ وہ اپنے محلوں میں نرم اور گرم بستروں پر سوئے اور مسافر جنگل کی ان برفانی ہواؤں میں مریں۔ خدا کی قسم، اگر قیامت کے دن وہ بہشت میں بھیجا گیا تو میں کبھی نہ جانے دوں گا۔‘‘

دوسرے نے کہا۔ ’’حکومت میں خدا ترسی کہاں؟ یہ خوشامدیوں کی باتیں ہیں۔‘‘
یہ سن کر نیک بادشاہ واپس چلا آیا او رمحل میں پہنچ کر حکم دیا کہ ’’دو غریب مسافر جو شہر کے باہر فلاں جگہ پڑے ہوئے ہیں، انہیں اسی وقت لے آؤ اور کھانا کھلا کر آرام سے سلا دو۔‘‘ چنانچہ فوراً حکم کی تعمیل ہوگئی۔ [...]

میرا نام کیا ہے؟

Shayari By

ایک بہت ہی پیارا سا بونا جنگل میں رہتا تھا۔ اس کے باغ میں ایک چھوٹی سی چڑیا رہتی تھی، جو روز صبح ہونے کے لئے گانا گاتی تھی، گانے سے خوش ہو کر بونا چڑیا کو روٹی کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔ بونے کا نام منگو تھا وہ چڑیا سے روز گانا سنتا تھا۔
ایک دن بہت ہی عجیب واقعہ پیش آیا ہوا یوں کہ منگو خریداری کر کے گھر واپس جا رہا تھا تو ایک کالے بونے نے اسے پکڑ کر بوری میں بند کردیا اور اسے اپنے گھر لے گیا۔ جب اسے بوری سے باہر نکالا گیا تو وہ ایک قلعے نما گھر میں تھا۔ کالے بونے نے اسے بتایا کہ وہ آج سے بونے کا باورچی ہے۔ مجھے جام سے بھرے ہوئے کیک اور بادام پستے والی چاکلیٹس پسند ہیں۔ میرے لیے یہ چیزیں ابھی بناؤ۔ بے چارا منگو سارا دن کیک اور چاکلیٹس بناتا رہتا، کیوں کہ کالے بونے کو اس کے علاوہ کچھ بھی پسند نہ تھا۔ وہ سارا دن مصروف رہتا۔ وہ اکثر سوچتا کہ یہ کالا بونا کون ہے؟

’’آپ کون ہیں ماسٹر؟‘‘ ایک دن منگونے اس سے پوچھا۔ کالے بونے نے کہا ’’اگر تم میرا نام بوجھ لو تو میں تمہیں جانے دوں گا، لیکن تم کبھی یہ جان نہیں پاؤگے!‘‘
منگو نے ایک آہ بھری، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ وہ کالے بونے کا اصل نام کبھی نہیں جان پائےگا، کیوں کہ اسے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں تھی کہ وہ دوسرے بونوں ہی سے کچھ معلوم کر سکتا۔ اس نے کچھ تکے لگائے۔ [...]

محاوروں کی دنیا

Shayari By

محاوروں کی دنیا عجیب وغریب ہے، ہمارے شاعروں کی طرح جنھیں کہنا کچھ ہوتا ہے اور کہتے کچھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے‘، اس سوال میں وہ طلبا بری طرح فیل ہوتے ہیں جو ’عید کے چاند کو‘ واقعی عید کا چاند سمجھتے ہیں۔ جب انھیں اس محاورے کا صحیح مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کبھی کبھار یا ایک مدت بعد دکھائی دے تو بیچارے حیران ہو کر اپنا سر اتنی دیر تک کھجاتے ہیں، کہ عید کا چاند دکھائی دے جائے۔
جو لوگ محاوروں میں الفاظ ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں، محاوروں کے استعمال میں اکثر ٹھوکر کھاتے ہیں۔ وہ نیم کے پیڑ اور حکیم صاحب کو اپنی جان کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ’باغ باغ ہونا‘ ہو تو گارڈن کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔ فلش کا استعمال کر کے اپنے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ کوئی سو جائے تو کہتے ہیں ’’اس کی آنکھ بند ہو گئی۔‘‘

خاص طور پر سیر کے لئے جاتے ہیں تاکہ واپسی پر کھانا کھانے کے بعد انھیں یقین ہو جائے کہ انھوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ہے۔ پھول کے پودے لگا کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم گل کھلا رہے ہیں۔ کل ایک صاحب جو دیواروں پر پیلا رنگ لگا رہے تھے، اپنے رنگین ہاتھوں کو دیکھ کر خوش ہو نے لگے کہ لیجئے جناب! آج ہمارے بھی ہاتھ پیلے ہو گئے۔
اسی قسم کا ایک اور محاورہ ہے، ’سر آنکھوں پر‘، اس کے معنی ہیں دل و جان سے یا بڑی خوشی سے۔ اسی طرح ‘سر آنکھوں پر بٹھانا‘، یہ محاورہ کسی کی آؤ بھگت کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس محاورہ میں نہ سر سے سروکار ہے نہ آنکھوں سے۔ اگر کوئی شخص یہ خوش خبری سنائے کہ وہ مہمان بن کر آپ کے گھر آرہا ہے تو بظاہر یہ کہنے کا رواج ہے۔ ’’ضرور تشریف لائے، آپ کی آمد سرآنکھوں پر‘‘ یہ اور بات کہ آپ کا دل اندر ہی اندر درج ذیل تراکیب کا ورد کر رہا ہوگا۔ برے پھنے ، ہوگیا ستّیا ناس، گئے کام سے، آگئی شامت، بن گیا گھر والوں کا کچوم، اب تو ہو گئے دیوالیہ، یہ مصیبت میرے ہی گلے پڑنی تھی، جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو وغیرہ وغیرہ۔ پھر آپ کا ذہن اس بن بلائے مہمان سے بچنے کی تراکیب سوچنے لگے گا۔ [...]

گفٹ

Shayari By

بارش کی پہلی پھوار کے ساتھ ہی سارا ماحول بدل گیا تھا۔ کل سے اسکول کھل جائیں گے اس احساس سے گھر کے تمام بچوں میں ایک عجیب سی امنگ پیدا کر دی تھی۔ بازاروں میں ہر طرف خریداروں کی چہل پہل تھی جن میں اکثر بچے اور ان کے والدین تھے۔ سب کتابوں اور یونیفارم کی خریداری میں مصروف تھے۔
شگفتہ شام ڈھلے شہر کے سپر مارکیٹ سے اسکول کے لئے ضروری چیزیں خرید کر اپنے والد کے ساتھ لوٹی تو اسے دیکھتے ہی اس کا چھوٹا بھائی مزمل دوڑ پڑا اور اس کے لئے خریدی گئی چیزوں سے بھرا بیگ دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے تمام کتابیں کاپیاں اور یونیفارم دیکھ کر اطمینان کر لیا۔ جب اس کی نظر شگفتہ کے بیگ پر پڑی تو اسے فوراً محسوس ہوا کہ اس کا بیگ باجی کے بیگ سے چھوٹا ہے۔ شگفتہ کو اس نے یہ بات بتائی تو وہ اسے سمجھانے لگی کہ میری کتابیں اور بیاضیں بھی تو تم سے زیادہ ہیں۔ تمہارا بیگ چھوٹا ضرور ہے پھر بھی میرے بیگ سے زیادہ مہنگا اور خوبصورت بھی تو ہے۔ یہ سن کر مزمل خاموش ہو گیا۔

شگفتہ نے جب اپنے بیگ کا جائز ولیا تو سر پر ہاتھ مار کر بولی: ’افوہ! خاص چیز تو رہ ہی گئی، کمپاس بکس چھوٹ گیا نا!‘
’کیا دکان پر رہ گیا؟‘ [...]

اچھے دوست

Shayari By

شاکر اور انور گہرے دوست تھے۔ دونوں تیسری جماعت میں پڑھتے تھے۔ ساتھ اسکول جاتے اور ساتھ واپس آتے۔ ساتھ ہی اسکول کا کام کرتے اور رات کے وقت گلی کے بچوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے۔ شاکر کے والد شیخ صاحب اور انور کے والد ملک صاحب دونوں ان کی دوستی سے بہت خوش تھے، اور اس دوستی نے ان کو بھی دوست بنا دیا تھا۔ ان کی دوستی سے پہلے شیخ صاحب اور ملک صاحب ایک دوسرے کے دوست نہیں تھے۔ دونوں کےگھر ایک ہی گلی میں تھے۔
رات کا وقت تھا۔ سب بچے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے ۔ شاکر انور کی آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔

جب سب بچے چُھپ گئے تو وہ بھی اسے آنکھیں بند کیے رہنے کا کہہ کر وہاں سے اُٹھا اور انور کے گھر میں چھپ گیا۔ انور نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور پوری گلی میں بچوں کو تلاش کرتا پھرا۔ پھر اپنے گھر میں گھس گیا اور شاکر کو پکڑ لیا۔ ساتھ ہی اُس نے شور مچا دیا۔ چور پکڑا گیا، چور پکڑا گیا، سب بچے اپنی جگہوں سے نکل آئے۔ شاکر نے غصے میں آکر کہا:
’’تم نے ضرور آنکھیں کھول کر دیکھ لیا ہوگا، ورنہ میں نہ پکڑا جاتا؟‘‘ [...]

بچپن کی یادیں

Shayari By

بچپن ہماری زندگی کا یقینا سنہرا دور ہے۔ اس کی حسین یادیں تا عمر ہمارے دل و دماغ کے نہاں خانوں میں جگمگاتی رہتی ہیں۔ انگریزی کے مشہور شاعر جان ملٹن نے اسے ’’جنت گمشدہ‘‘ یعنی کھوئی ہوئی جنت کہا ہے۔ جب بھی ہم اپنے بچپن کے بارے میں سوچتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کاش ہم ایک بار پھر چھوٹے سے بچے بن جائیں۔ بچپن میں ہم گھر بھر کے دلارے اور سب کی آنکھ کے تارے تھے ہر کوئی ہمیں لاڈ پیار کیا کرتا تھا۔ بچپن کی سیانی یادیں اس قدر دلکش ہوا کرتی ہیں کہ انھیں یاد کر کے شاعر بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔
یادِ ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
میں جب بھی اپنے بچپن کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے والدین کی وہ بے لوث محبت اور شفقت یاد آتی ہے۔ نانا نانی، دادا دادی کا دلار اور ان کا ہمارے لیے فکرمند رہنا۔ ہماری تعلیم و تربیت اور کھانے پینے کی دیکھ بھال کرنا، بھائی بہنوں کا ستانا، اسکول کے کاموں میں ہماری مدد کرنا، سب یاد آتا ہے اور یاد آتے ہیں، بچپن کے وہ سارے دوست جن کے ساتھ ہم گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔ بچپن کے کھیل اس قدر دلچسپ ہوا کرتے تھے کہ دوستوں کے ساتھ یا میدان میں کھیلتے ہوئے ان میں مگن ہو کر کھانا پینا اور اپنے گھر جانا بھی بھول جاتے تھے۔ بچپن ہر قسم کی فکر، دشمنی کینہ، کیپٹ اور برائیوں سے پاک ہوا کرتا ہے اسی لیے تو بچوں کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔ [...]

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close