میں چھاؤں میں جن کی
رات کے یہ مہیب سناٹے
میں ان پرندوں کو جانتا ہوں ...
وغا میں کوئی بھی ایسا عدو نہیں آیا ...
میری آمد پہ سجاتے تھے جو رستہ میرا ...
لو ڈوب گیا فرش عزا دیدۂ نم سے ...
جنوں کے ہاتھ سے خوار و خجل نہیں ہوتا ...
اتنا نہ کر کسی کو شناسا اکھیڑ سے ...
ہجر اس کا مرے اعصاب پہ یوں طاری تھا ...
گو اب مرے وجود پہ سر ہے نہ دوش ہے ...
فوراً سپاہ شوم کی للکار بند ہو ...
دکھ تو یہ ہے زندگی کا خواب پورا رہ گیا ...
اشک ٹپکا نہ مری آنکھ میں خوں آیا ہے ...
اس مسافر کے ہرے لفظ اثر دار ہوئے ...
تم سے جڑے ہیں جتنے محبت شناس لوگ ...
رہ جنوں جو نشان قدم اکٹھا تھے ...
پتہ چلا ہے آپ کے نمک کو گھاؤ چاہیے ...
مذاق مت اڑائیے لباس کا ...
جانے کیا کچھ سوچ لیا نادانی میں ...
گھر میں اک رات زبانوں پہ تھا ہائے ابو ...