گھر کے پہلو میں کھڑا تھا جو شجر ختم ہوا ...
ایک دن رات کے گریے کا لطیفہ ہونا ...
ازل تا حال مقید سی اک حیات میں ہوں ...
انا پہ ظلم کیا ہے مجھے ندامت ہے ...
ایسی اذیتوں میں کسی کی بسر نہ ہو ...
آپ کو لاکھ بھرم ہو کہ سخن سازی ہے ...
قبول کر کے اسے رابطہ بحال کرو
دیکھو تو رشتہ بن جاتا ہے ...
زخم محبت پاگلپن بیماری طلب کچھ ہے ...
لغت میں دیکھ پہلے پیار آتا ہے ...
خواب کے بیج انہیں بونے کی اجازت نہیں ہے ...
جنوں سے عمر کی طرف سرک رہا ہوں آج کل ...
بزدل ہیں تو اس رستے سے جاتے ہی نہیں ہیں ...
عجب ہے اس سے کبھی وصل ہو نہیں پایا ...
وہ عہد گزشتہ کا دل کش فسانہ ...
ایک دن تھی دوپہر کی سخت گرمی آشکار ...
یاد بھی اس کی خواب کی سی ہے ...
ساتھ لگتا ہے سنگ لگتا ہے ...
پورے مجمع کو لاجواب کیا ...
کسی کے ہجر کے سائے میں آ کھڑا ہوں میں ...