ایک تھی لیلیٰ، ایک تھا مجنوں۔ مگر لیلیٰ کا نام لیلیٰ نہیں تھا، للی تھا، للی ڈی سوزا۔ ...
شاخ کے بعد زمیں سے بھی جدا ہونا ہے ...
ہوں مشت خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں ...
زندگی میں رنگ بھر کے مر گئے ...
یاس و حسرت کی ضرب کاری ہے ...
یاد تمہاری آئی ہے برساتوں میں ...
تنگ نظری میں ہر اک دانا کی دانائی گئی ...
تڑپ جاتا ہے دل جب دوریوں کی بات ہوتی ہے ...
صبح آئی بھی تو کہروں میں اضافہ ہو گیا ...
ساحل پہ کوئی ڈوب کے ابھرا نہ دوبارا ...
سحاب ہوں تپش آفتاب کیسے دوں ...
ملال سر پہ قیامت اٹھانے لگتا ہے ...
میں نے تری بستی کے یہ دیکھے ہیں نظارے ...
خوں میں ڈوبی ہوئی لاشوں کی طرف کیا دیکھوں ...
ہوا کا ہاتھ پکڑ کر یہاں جو چلتا ہے ...
اک نہ اک شاخ تمنا کی ہری رہتی ہے ...
چلتے چلتے ساتھی کوئی بچھڑا تو افسوس ہوا ...
اقدار کہن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ...
افسانہ دہرانے سے کیا ہوتا ہے ...
یہ مرے گھر کے تین چار درخت ...