ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا ...
ہوش آنے کے بعد دودھ پیا ...
گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے ...
در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دئے ...
باغ سے متصل ہے ایک گلی ...
وحشت میں کیا شک ہے جی ...
وفور رحمت پروردگار ہوتا تھا ...
اجڑے ہوئے رستے ہم ...
ترے بچھڑنے کا دکھ اپنے خاندان کا دکھ ...
رنگت چہرہ آنکھیں عارض لب دھتکارے گا ...
نیند پلکوں کے کناروں پہ دھری رہتی ہے ...
کیوں توڑ دئے جاتے ہیں ثمر کمزور شجر کی ڈالیوں سے ...
خود ساختہ سزا کو جو ہم چن لیے گئے ...
کھل اٹھے سکھ کے پھول چاروں طرف ...
فلک سے ان کو خدا کے سلام آتے ہیں ...
دل ملمع سازیوں سے بھر گئے ...
الگ تم سے ہوا فرقہ ہمارا ...
ایسا غم ہے کہ جو کر دے گا مرے بال سفید ...
واللہ ان شہیدوں کا معیار دیکھ کر
یہاں جنازوں میں قاتل شریک ہوتے ہیں ...