تم ایسے پودوں نے بڑھ کر شجر نہیں ہونا ...
تھکے تو قافلہ واپس گھروں کو موڑ لیا ...
نیا نظارہ بھی دیکھا ہوا دکھاتا ہے ...
میں باہیں کھول کے پورا شجر نہیں بنتا ...
کشاکشی کو جو تیار بھی نہیں رہتے ...
کہیں دیوار مثال اور کہیں در جیسا تھا ...
جب اس کی طرف سے کوئی پتھر نہیں آتا ...
ہرے ہوئے نہیں اطراف کے شجر میرے ...
گوشے گوشے پہ کوئی نقش قدم بنتا ہے ...
فطرت کی بند مٹھیوں کو کھولتا رہا ...
زیست میں کامیاب تھے کچھ لوگ ...
یہ عبادت ہے الگ عشق کے معیار الگ ...
ترے بغیر ہوں زندہ مگر یہ حالت ہے ...
نئی ہواؤں کے ہم راہ چل رہا ہوں میں ...
میں آگ ہوں پانی ہوں نہ مٹی نہ ہوا ہوں ...
خاک صحراؤں میں اڑانے کا ...
کئی دنوں سے جو زہریلی چل رہی ہے ہوا ...
جسم سے روح تک اترتی ہوئی ...
جب وہ کھڑکی سے جھانکتا ہوگا ...
گھر کی الجھن سے طبیعت یوں رہی الجھی ہوئی ...