آنسوؤں کا ایک حلقہ کھینچ کر ...
عام سا اک شخص ہے یہ فرحت احساسؔ آپ کا ...
آب چشم آئے اور نہاؤں میں ...
زلزلوں کا اثر نہیں ہوتا ...
یہ جو ویرانے میں بیٹھا ہوا ہے ...
یہ جو بازار میں پھیلے ہوئے ہیں ...
یہ جو باہر خدا سے ڈر رہے ہیں ...
یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میں ...
یہاں جاں پر بنی ہے یار میرے ...
وہ کہاں ہے کتاب کے اندر ...
وہ جو تمہاری مجبوری ہے ...
وفا میں پیچ ایسا پڑ گیا ...
اس نے کیا کیا نہیں دیا مجھ کو ...
اس کو اک بار روشنی میں دیکھ ...
اس کی خوشبو خرید لائے ہیں ...
اس کی کھڑکی سے روشنی آئی ...
اس کے جیسا کوئی ملا ہی نہیں ...
اس کے دل میں جو بند رہتا ہے ...
اس سے اس کے بغیر باتیں کیں ...
تمہیں بس یہ بتانا چاہتا ہوں ...