تم ہمارے قریب آنے کو ...
تری آواز دھیمی ہو رہی ہے ...
تری آمد کی لاگت بڑھ رہی ہے ...
ترے کوچے میں پہرہ بڑھ گیا ہے ...
ترے غم کی جب تک سوئی چل رہی ہے ...
ترے در کی حمایت مل گئی ہے ...
سانپ بھی بین بھی مداری بھی ...
سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے ...
سامنے ہو تو بس اشارہ کر ...
رات اس کو رلا دیا میں نے ...
پہلے احساس میں اتار اسے ...
نقلی ہیں سب تالے تالی ...
نہیں آتے ہیں ہم اپنی سمجھ میں ...
نئے دریا سے رشتہ ہو گیا ہے ...
منہ میں جب تک زبان باقی ہے ...
محبت بھی مصیبت ہو گئی کیا ...
لگتی نہیں ہے گرمی سردی ...
کیوں قفس میں ادھر ادھر دیکھیں ...
کوئی تتلی نہیں بتاتی ہے ...
کوئی دکاں نہ خریدار دیکھ سکتا ہوں ...