اس بار تجھے خواب میں آنا ہی پڑے گا ...
ہمیں یہ عشق حجابی بنا کے رکھنا ہے ...
بس ایک بار کہہ دے وہ اچھا قبول ہے ...
دماغ و دل کی تھکان والا
یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ دل نشیں ہے بہت ...
یہ ایک دن کا نہیں تجربہ ہے برسوں کا ...
تمہارے بعد بھی یہ طور اختیار کیا ...
تشبیہ رمز رس نہ کنائے کے بس میں ہے ...
مری ناکام چالوں پر وہ ایسے مسکراتا ہے ...
ماضی کے پرستاروں میں مجھ کو نہ گنا کر ...
خود کو اتنا بھی پشیمان نہیں کرنا تھا ...
جنون شوق میں آداب رقص وحشت کیا ...
ہوش و خرد کا جال بچھائیں گے پھر کبھی ...
ہنگامۂ حیات کو کوئی تو نام دے ...
دل کو یہ احسان اٹھانا پڑتا ہے ...
دیکھو پرانے خواب نئے خواب کے لیے ...
دشت جنوں میں میرے برابر نہیں کوئی ...
دم رخصت فراہم ہجر کا سامان کرتے ہیں ...
بے رخی ہے کہ تغافل ہے سزا ہے کیا ہے ...
اپنے حصے کی چالیں چلے گا ضرور ...