اندر بالکل کڑوے لیکن باہر میٹھے ہوتے ہیں ...
محفوظ ہیں یادوں میں ابھی تک وہ بتدریج ...
اے مری ہمدم و دم ساز مری جان نفس ...
موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا
سن سہیلی سن ...
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے
وہی اب ہو گیا دشمن ہمارا ...
تالاب دریا جھیل سمندر نہیں ہوئے ...
شدت سے مجھ سے ہاتھ چھڑانے کے باوجود ...
کتنا حسین خواب تھا آنکھوں میں رہ گیا ...
اس قدر لوگوں کی کمی ہے مجھے ...
دونوں طرف سے ربط کے پہلو نکال کر ...
وہ حادثہ بھی ہوا میری زندگانی میں ...
سماعت سے جب آوازوں کا ناطہ ٹوٹ جاتا ہے ...
جڑاؤ اتنا بھی آساں نہیں وفاؤں سے ...
ہے وصل اگر اس میں تو فرقت بھی بہت ہے ...
بعد تیرے کیا بتائیں اور کیا چلتا رہا ...
یہ مری ضد ہے کہ مجھ کو وہ منانے آئے ...
ملے ہیں زخم جو ان سے اسے سجاؤں گا ...
اسی لیے میں مخاطب ہوں اس زمانے سے ...