کوئی دروازے پہ بیٹھا نہیں دیکھا جاتا ...
کسی نے نہ جب دیکھا بھالا مجھے ...
خدا کو بھولنا آسان ہے ...
خوف منجدھار سے جو کھاتا ہے ...
کر رہے ہیں دوا خیال کئی ...
کیسے تیور ہیں اب ہوا کے دیکھ ...
کہیں سے جب کوئی آواز آئی ...
کبھی آواز دے اک بار کوئی ...
جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھی ...
جو کہا وہ نہیں کیا اس نے ...
جو چوزے آشیانے میں مرے ہیں ...
جو چڑیا میرے گھر آ جا رہی تھی ...
جو بنے گا وہی بنانا ہے ...
جسے بولا تھا کانٹے توڑ ڈالے ...
جنہیں ہم یاد کر کے رو رہے ہیں ...
جینے لگتا ہے زندگی کے بغیر ...
جب تلک خاک میں ملا نہ دیا ...
جانے دئے نے بولا کیا ...
عشق کا کتنا کام پڑا ہے ...
اس قدر آندھیوں سے ڈرتا ہے ...