ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہے ...
ہم تو روٹھے تھے آزمانے کو ...
ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھے ...
ہم کو رستہ بتا کے لوٹ گئے ...
ہوئے جب آئنے آپے سے باہر ...
ہجر کی مات کاٹنے کے لئے ...
ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوں ...
گلشن سورج چاند ستارے ...
غزل کا آب و دانہ چل رہا ہے ...
غزل آسمانی نہیں ہو رہی ہے ...
گھر میں روزن نہیں رہا کوئی ...
گھر میں ایک دریچہ کم ہے ...
ایک اگر پیمانہ ہوتا ...
دیر سے اپنے اپنے گھیرے میں ...
دراریں بام و در کی پڑھ رہے ہیں ...
چیخیں لمبی ہو جاتی ہیں ...
بلا مطلب کوئی آتا نہیں تھا ...
بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہے ...
بس وہی لفظ تذکرے میں ہے ...
باقی سب کو ہرانا پڑتا ہے ...