باقی جو لوگ ہیں کہیں ہوتے ...
بہت دشوار ہے رستہ ہمارا ...
بڑی گہری خموشی ہو گئی ہے ...
عقل کا ہر سوال کاٹ دیا ...
اپنے شجرے دکھا رہے ہیں پھول ...
انا بے دار ہوتی جا رہی ہے ...
اگر ذرا بھی کسی سر کا ذکر ہوتا ہے ...
آپ ہمیں کیا بھول گئے ہیں ...
آپ دیتے نہیں سزا کوئی ...
آپ اگر مہرباں نہیں ہوتے ...
آخری داد راکھ نے دی تھی ...
آخری بار دیکھنا ہے اسے ...
آج اس کے دل میں دیکھا دوسرا اپنی جگہ ...
آبلہ پائی کا نشہ نہ گیا ...
ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو
لڑکپن میں کسی کی عاشقی اچھی نہیں ہوتی ...
جسے اپنا سمجھتے تھے وہی اپنا نہیں نکلا ...
ہزاروں رنج سہتے ہیں ہزاروں غم اٹھاتے ہیں ...
بہت چاہا کہ کچھ کہہ دیں زباں پھر بھی نہیں کھولی ...
بعد تمہارے دیکھ نہ پایا درپن کیسا ہوتا ہے ...