Post

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی

حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی

مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی

تُمہاری یاد کی خُوشبُو کے دائروں میں رہا
اگرچہ زرد رہی، پر بہار جیسی تھی

تُمہارے ہِجر کے موسم میں، کیا کہُوں حالت
کبھی اُجاڑ، کبھی تو سِنگھار جیسی تھی

رہی ہے گِرد مِرے حلقہ اپنا تنگ کِیئے
حیات جیسے کِسی اِک حِصار جیسی تھی

وہ رات جِس سے میں شب بھر لِپٹ کے روتا رہا
رشِیدؔ شب تھی مگر غمگُسار جیسی تھی

رشِید حسرتؔ

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟
ہر ایک چہرے سے ظاہِر ملال ہے کہ نہِیں؟

تمام چِیزوں کی قِیمت بڑھائی جاتی رہی
غرِیب مارنے کی اِس میں چال ہے کہ نہِیں؟

پہُنچ سے پہلے ہی باہر تھا عیش کا ساماں
فلک کے پاس ابھی آٹا، دال ہے کہ نہِیں؟

جو برق مہِنگی بتاتا بِلوں کو پھاڑتا تھا
کُچھ اپنے عہد میں اِس کا خیال ہے کہ نہِیں؟

ہمارے جِسم سے نوچا ہے گوشت، خُوں چُوسا
ابھی یہ دیکھنے آیا ہے کھال ہے کہ نہِیں؟

وہ جِس کے عہد میں ماں باپ بیچ دیں بچّے
تُمہیں کہو کہ یہ وجہِ وبال ہے کہ نہِیں؟

ٹھٹھر کے سرد عِلاقوں میں مر رہے ہیں لوگ
زُباں سے پُھوٹو تُمہیں کُچھ مجال ہے کہ نہِیں؟

کِیا تھا عہد بحالی کا، چِھین لی روٹی
غرِیب کے لِیئے جِینا مُحال ہے کہ نہِیں؟

نمُونہ سامنے رکھتے ہیں ہم خلِیفوں کا
تُمہارے سامنے کوئی مِثال ہے کہ نہِیں؟

دِکھائے باغ ہرے ہم غرِیب لوگوں کو
عوام پہلے سے مخدُوش حال ہے کہ نہِیں؟

امیرِ شہر نے آنکھیں رکھی ہیں بند رشِیدؔ
وگرنہ چہرہ طمانچوں سے لال ہے کہ نہِیں؟

رشِید حسرتؔ

">

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close