پیشاب گھر آگے ہے

Shayari By

ایک باقاعدہ بنے ہوئے شہر کی شاہراہ، ایک اجنبی، پیشاب کی اذیت ناک شدت اور پیشاب گھر کی تلاش۔
جب سب کچھ بنتا ہے تو پیشاب گھر نہیں بنتے۔

جب پیشاب گھر بنتے ہیں تو لوگ وہاں پاخانہ کر دیتے ہیں۔
پتلون کی فلائی پر بار بار ہاتھ جاتا ہے۔ ایک کشادہ سی صاف ستھری دیوار پر لکھا ہے یہاں پیشاب کرنا منع ہے، وہاں دیوار سے لگ کر کہ سایہ ہے لاتعداد خوانچے والے بیٹھے ہیں۔ سامنے سیدھی بھاگتی ہوئی شاہراہ ہے۔ دائیں بائیں دکانیں ہیں۔ مال سے لدی ہوئی۔ چوراہے اور فوارے ہیں۔ چاٹ کی دکانیں، آئس کریم، بھنے ہوئے چنے، ٹی اسٹال، چوڑے چوڑے فٹ پاتھ، کہیں کہیں، کنارے کنارے لوہے کی خوبصورت ریلنگز اور آدمیوں کی بھیڑ۔ صاف ستھرے، تیز تیز چلتے اپنے آپ سے باتیں کرتے چھوٹے بڑے آدمی۔ [...]

دور کا نشانہ

Shayari By

لالہ بنسی دھر تھے تو ذات کے بنئے اور وہ بھی کشور دھن جو بنیوں میں اونچی ذات نہیں سمجھی جاتی ہے۔ مگر اپنے انداز شرافت سے ہیموں بقال، ٹوڈرمل مجار گو، سب کی یاد تازہ کر دیتے تھے۔ گھر کے اندر بیٹھ کر جو پوجا پاٹ کر لیتے ہوں مگر باہر آزاد خیال، آزادہ رو مشہور تھے۔ آج کل کی آزادہ روی نہیں کہ باتیں کرنے میں بدتمیزی تمغہ خودداری سمجھا جائے اور کھلم کھلا ہر چیز کھانا پینا نئی روشنی کی پہچان ٹھہرے۔
حسن اتفاق سے حسن پرست بھی واقع ہوئے تھے۔ اس لیے لکھنو کے چوک اور شہر کے پچھمی حصے سے جہاں قدیم کلچر کے نام لیوا نوابین رہتے ہیں زیادہ واقف تھے۔ لکھ پتی مشہور تھے، گمر میں مہاجنی، عدالت دیوانی سے خریدی ہوئی زمینداری سب ہی کچھ تھا مگر صحبت کے یقیناً ایسے تھے کہ باوجود مصروفیت کے ان جلسوں کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ چوک بھر کی خبر رکھتے تھے۔ جہاں کہیں جلسہ ہوا یا پرائیویٹ مجرا ہوا، وہاں پہنچ ہی جاتے تھے اور رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ ان جلسوں میں حاشیہ نشین ہوکر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ مسند کا کونا دباکر بیٹھنے والوں میں شمار ہوتا تھا۔ جہاں کہیں ارباب نشاط کے انتخاب کا سوال پیش ہوتا تھا وہاں ان کی رائے بہت قیمتی سمجھی جاتی تھی اور ایسے اہم معاملات میں جو خوش قسمت ان کا مشورہ حاصل کر سکتا، وہ مطمئن ہو جاتا تھا کہ صورت، دن، سن اور فن کے لحاظ سے اب کوئی کسر نہیں رہ گئی۔

آدمی منکسر مزاج اور خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے تھے، مگر جہاں سے دل کے معاملات شروع ہوتے تھے وہاں سے ان کی خودداری ان کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ دوسرے کے معاملات سے واسطہ رکھیں۔ تجربے نے ان کو بتا دیا تھا کہ چاہے جتنا بڑا دوست ہو یا کتنا ہی دولت مند ملاقاتی ہو اگر ان پرائیویٹ معاملات میں یہ کسی کی مدد کریں گے تو ذلیل ہو جائیں گے۔ میرے پڑھنے والے کہتے ہوں گے کہ لکھنے والا سٹھیا گیا ہے۔ نہ معلوم کہاں کی دقیانوسی بداخلاقیوں اور بدتہذیبیوں کو پیش کر رہا ہے اور یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ نوجوان لوگ پڑھ کر بےراہ ہوجائیں گے۔ چوک اور چوک بازاروں کا ذکر قانوناً ممنوع ہو جانا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ کہیں ایسا کیجیےگا بھی نہیں، نہیں تو نہ معلوم کتنے ریسٹوران، کتنے ہوٹل، کتنے کافی ہاؤسز، ملک کارنرس پر قفل پڑ جائیں گے اور نوجوانوں کو جو سبق فطرت پڑھا چکی ہے وہ تو بھولنے سے رہے لیکن زیب النسا کی طرح چلا اٹھیں گے کہ،
پاکبازیٔ من باعث گناہِ من است [...]

گفٹ

Shayari By

بارش کی پہلی پھوار کے ساتھ ہی سارا ماحول بدل گیا تھا۔ کل سے اسکول کھل جائیں گے اس احساس سے گھر کے تمام بچوں میں ایک عجیب سی امنگ پیدا کر دی تھی۔ بازاروں میں ہر طرف خریداروں کی چہل پہل تھی جن میں اکثر بچے اور ان کے والدین تھے۔ سب کتابوں اور یونیفارم کی خریداری میں مصروف تھے۔
شگفتہ شام ڈھلے شہر کے سپر مارکیٹ سے اسکول کے لئے ضروری چیزیں خرید کر اپنے والد کے ساتھ لوٹی تو اسے دیکھتے ہی اس کا چھوٹا بھائی مزمل دوڑ پڑا اور اس کے لئے خریدی گئی چیزوں سے بھرا بیگ دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے تمام کتابیں کاپیاں اور یونیفارم دیکھ کر اطمینان کر لیا۔ جب اس کی نظر شگفتہ کے بیگ پر پڑی تو اسے فوراً محسوس ہوا کہ اس کا بیگ باجی کے بیگ سے چھوٹا ہے۔ شگفتہ کو اس نے یہ بات بتائی تو وہ اسے سمجھانے لگی کہ میری کتابیں اور بیاضیں بھی تو تم سے زیادہ ہیں۔ تمہارا بیگ چھوٹا ضرور ہے پھر بھی میرے بیگ سے زیادہ مہنگا اور خوبصورت بھی تو ہے۔ یہ سن کر مزمل خاموش ہو گیا۔

شگفتہ نے جب اپنے بیگ کا جائز ولیا تو سر پر ہاتھ مار کر بولی: ’افوہ! خاص چیز تو رہ ہی گئی، کمپاس بکس چھوٹ گیا نا!‘
’کیا دکان پر رہ گیا؟‘ [...]

اچھے دوست

Shayari By

شاکر اور انور گہرے دوست تھے۔ دونوں تیسری جماعت میں پڑھتے تھے۔ ساتھ اسکول جاتے اور ساتھ واپس آتے۔ ساتھ ہی اسکول کا کام کرتے اور رات کے وقت گلی کے بچوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے۔ شاکر کے والد شیخ صاحب اور انور کے والد ملک صاحب دونوں ان کی دوستی سے بہت خوش تھے، اور اس دوستی نے ان کو بھی دوست بنا دیا تھا۔ ان کی دوستی سے پہلے شیخ صاحب اور ملک صاحب ایک دوسرے کے دوست نہیں تھے۔ دونوں کےگھر ایک ہی گلی میں تھے۔
رات کا وقت تھا۔ سب بچے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے ۔ شاکر انور کی آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔

جب سب بچے چُھپ گئے تو وہ بھی اسے آنکھیں بند کیے رہنے کا کہہ کر وہاں سے اُٹھا اور انور کے گھر میں چھپ گیا۔ انور نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور پوری گلی میں بچوں کو تلاش کرتا پھرا۔ پھر اپنے گھر میں گھس گیا اور شاکر کو پکڑ لیا۔ ساتھ ہی اُس نے شور مچا دیا۔ چور پکڑا گیا، چور پکڑا گیا، سب بچے اپنی جگہوں سے نکل آئے۔ شاکر نے غصے میں آکر کہا:
’’تم نے ضرور آنکھیں کھول کر دیکھ لیا ہوگا، ورنہ میں نہ پکڑا جاتا؟‘‘ [...]

مالکن

Shayari By

۱۹۵۰ء میں جو سیلاب آیا تھا، اس نے سیتاپور سے لے کر لکھیم پور کھیری تک کے سارے ’’گانجر‘‘ کے علاقے کو تہس نہس کرکے رکھ دیاتھا۔ لیکن گھاگھرا نے تو کمال ہی کردیا۔ صدیوں کا بنابنایا راستہ چھوڑ کر سات میل پیدل چل کر آئی اور سڑک کوٹنے والے انجن کی طرح چھوٹے موٹے دیہاتوں کو زمین کے برابر کرتی ہوئی رونق پور میں داخل ہوگئی۔
رونق پور پہلے ہی سے خالی ڈھابلی کی طرح ننگا پڑا تھا۔ سارے گاؤں میں بس حویلی کھڑی تھی۔ حویلی کی کھڑکیوں سے اکا دکا بدحواس آدمیوں کے چہرے نظر آجاتے تھے جیسے شہد کی مکھیوں کے بڑے چھتے لٹک رہے ہوں۔ حویلی کچی تھی۔ لیکن کوئی سو برس سے گھنگھور برساتوں کے خلاف سینہ تانے کھڑی تھی۔ اس کی دیواروں کی چوڑان پر جہازی پلنگ بچھائے جاسکتے تھے۔ مشہور تھا کہ ایک نوسکھیا چور رونق پور کے نجیب الطرفین کا مہمان ہوا۔ رال ٹپکاتی نظروں سے حویلی کو دیکھ کر ہتھیلیاں کھجلانے لگا اور کنکھیوں سے ہاتھ کی صفائی دکھلانے کی اجازت طلب کرنے لگا۔ میزبان کو دل لگی سوجھی۔ اس نے کچھ اتا پتا بتاکر آدھی رات کو رخصت کردیا۔ مہمان ایک دیوار پر سابر لے کر جٹ گیا۔ کھودتا رہا۔ یہاں تک کہ فجر کی اذان ہوگئی۔ دیوار اسی طرح کھڑی تھی۔ اسی ٹھاٹ باٹ سے کھڑی تھی۔ وہ بیچارہ نامراد واپس ہوا۔

لیکن بنانے والوں نے حویلی بنائی تھی۔ ’’جل بھون‘‘ نہیں بنایا تھا۔ اوپر سے ’’ہتھیانکہت‘‘ برستا تھا اور نیچے برجھائی ہوئی مست ہتھنی کی طرح گھاگھرا چوٹیں کر رہی تھی۔ پہلے پھاٹک گرا، پھر دیوان خانہ۔ جب ڈیوڑھی گر گئی اور اندر کے کئی درجے بیٹھ گیے تب چودھری گلاب کی نمک حلالی کو غیرت آئی۔ علاقے بھر کے نامی نامی کہاروں اور مچھیروں کی چھوٹی سی فوج بنائی اور ان کے بازوؤں کے بجرے پر چڑھ کر تھان گاؤں سے نکلے اور رونق پور کی حویلی میں اترگیے۔ دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوئی مالکن کو کانپتی ہوئی آواز میں خطاب کیا۔
’’حضور اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ حکم دیجیے تو جان پر کھیل کر پالکی چڑھالاؤں اگر سرکارکی جوتیاں تک بھیگ جائیں تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔‘‘ تھوڑی دیر تک سناٹا رہا۔ گھاگرا کی پاگل موجوں کی دل دہلادینے والی بھیانک آواز کے سوا کوئی آواز نہ تھی۔ چودھری گلاب نے آہستہ سے پھر کہا تو آوازئی، [...]

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close