بس رہے ہیں اس نگر میں جِن و اِنساں ایک ساتھ

بس رہے ہیں اس نگر میں جِن و اِنساں ایک ساتھ
یہ رِوایت چل پڑی ہے ظُلم و احساں ایک ساتھ

اب توقع ہم سے رکھنا خیر خواہی کی عبث
ہم نے سارے توڑ ڈالے عہد و پیماں ایک ساتھ

چھا گئی ہے زِندگی پر اب تو فصلِ رنج و غم
جھیلتے ہیں زخمِ دوراں، قیدِ زنداں ایک ساتھ

بِالیقیں ہوں گے مُیسّر، تھے نصِیبوں میں اگر
جام و مِینا اور یارو بزمِ رِنداں ایک ساتھ

اُنگلِیوں پر لوگ مِصرعے ماپتے رہتے ہیں کیا
فاعِلن یا فاعِلاتن سب پریشاں ایک ساتھ

کُچھ غلط کرنے کو تھے لیکِن خُدا کا فضل ہے
گھر کو لوٹے سائے دو ہو کر پشیماں ایک ساتھ

اِک طرف تو پاؤں کی زنجِیر بن کر رہ گئی
دُوسرے دل کو ڈسے زلفِ پریشاں ایک ساتھ

کیا مزہ ہے زِندگی کا جب تلک لاحق نہِیں
فِکرِ دوراں اور تھوڑی فکرِ جاناں ایک ساتھ

لاج سے حسرتؔ تُمہیں کُچھ واسطہ ہے یا نہِیں
کیا رکھو گے دِل میں اب اصنام و اِیماں ایک ساتھ؟

رشِید حسرتؔ

سلامت چاہتے ہو دِل تو اِتنی بات مانو گے

سلامت چاہتے ہو دِل تو اِتنی بات مانو گے
تُمہیں لینا پڑے جو فیصلہ وہ زہن سے لو گے

پتا کیا وقت کیسا کھیل کھیلے، ہم بِچھڑ جائیں
کہاں ہوں گے نجانے ہم، نجانے تُم کہاں ہو گے

محبّت کام کیا آتی، ہمارا حال تو دیکھو
اِسی کا معجزہ کہہ لو ہُوئے ہم ہیں مرن جوگے

لُٹا دُوں تم پہ اپنی ساری خُوشیاں زِندگانی بھی
چلو یہ طے ہُؤا، اِتنا کہو بدلے میں کیا دو گے

کِسی اُلجھی ہُوئی رُت کا کوئی بھٹکا ہُؤا سایہ
پڑا جو راہ میں تو چین اپنا تُم گنواؤ گے

چلو تسلِیم کرتے ہیں لگاؤ گے شِکایت بھی
مگر اِتنا کہُوں (اِلزام کیا رکھنا ہے؟) سوچو گے

سُنا ہے کُچھ دِنوں تک پیار کی راحت میسّر ہے
پِھر اُس کے بعد حسرتؔ جی فقط راتوں میں جاگو گے

رشِید حسرتؔ

کوئی بھی سچّا نہِیں ہے، سب اداکاری کریں

کوئی بھی سچّا نہِیں ہے، سب اداکاری کریں
آؤ مِل کر دوست بچپن کے، عزا داری کریں

اِن کو اپنے آپ سے بڑھ کر نہِیں کوئی عزِیز
پیار جُھوٹا جو جتائیں اور مکّاری کریں

بھیڑ بکری کی طرح یہ بس میں ٹھونسیں آدمی
اور بولیں اور تھوڑی آپ بیداری کریں

تب تو اِن کی بات پر تُم کان تک دھرتے نہ تھے
اب تُمہارا ساتھ کیا دیں، کیوں طرف داری کریں؟؟

جو تُمہارے عہدِ کُرسی میں وفاداروں میں تھے
عین مُمکِن ہے کہ تُم سے آج غدّاری کریں

کار سرکاری ہماری اور اِیندھن مُفت کا
بے دھڑک ہم خرچ یارو مال سرکاری کریں

ایسی مِحنت کا تصوُّر بھی کہاں ہم کو نصِیب
جو ہمارے آج کے مزدُور یا ہاری کریں

وہ جِسے ہم رامؔ سمجھے تھے نِکل آیا ہے شامؔ
کِس کو سمجھاتے پِِھریں اب کِس سے مُنہ ماری کریں

قِیمتیں چِیزوں کی بڑھتی جارہی ہیں دِن بدِن
ہم رکھیں فریاد کِس کے سامنے، زاری کریں

ایک مُدّت سے رہے اِس عارضے میں مُبتِلا
دُور دِل سے آؤ اب ہم "میں" کی بِیماری کریں

ہم مزارِع گاؤں کے ایسے ہُوئے جِس میں رشِیدؔ
ایک سے بڑھ کر جہاں پر لوگ سرداری کریں

رشِید حسرتؔ

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں

کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں
پُھول سے دامن ہے خالی گر چہ ہیں گُلزار میں

پِھر محبّت اِس طرح بھی اِمتحاں لیتی رہی
جیب خالی لے کے پِھرتے تھے اِسے بازار میں

ہم نے ہر ہر بل کے بدلے خُوں بہایا ہے یہاں
تب کہِیں جا کر پڑے ہیں پیچ یہ دستار میں

ذائقوں سے اِن کے ہم کو کُچھ نہیں ہے اِنحراف
سب سے مِیٹھا پھل ہے لیکن صبر سب اثمار میں

چُرمراتے سُوکھے پتوں پر قدم رکھتے ہوئے
کھو کے رہ جاتے ہیں ماضی کی حسِیں مہکار میں

ہم گلی کُوچوں میں تو دعوا کریں تہذِیب کا
اور اپنے گھر رکھیں ماں باپ کو آزار میں

کیا ہی اچھّا تھا کہ ہم کرتے کِسی نُکتے پہ بات
ہم دُکاں داری لگاتے ہیں فقط تکرار میں

کل تُمہارے پاؤں چاٹیں گے ہمارا کام ہے
آج حاضِر ہو نہِیں پائے اگر دربار میں

زیدؔ نے لوگوں میں بانٹا، آج آٹا، دال، گِھی
اِس توقع پر کہ ہو گی کل خبر اخبار میں

ہم تُمہاری بے زُبانی سے تھے تھوڑا آشنا
کِھلکھلاتی "ہاں" چُھپی تھی "پُھسپُھسے اِنکار میں

جو سُنے وہ گُفتگُو کا بن کے رہ جائے اسِیر
کیسا جادُو رکھ دیا اِک شخص نے گُفتار میں

تھا زمانہ وہ تُمہارے ناز کا، انداز کا
شرم کے مارے گڑھے پڑتے تُمہیں رُخسار میں

کام کیا ایسا پڑا ہے، ڈُھونڈتے ہو کِس لِیئے
ہم سے مِلنا ہے تو پِھر ڈُھونڈو ہمیں اشعار میں

اِک وفا کو چھوڑ کر تصوِیر میں سب کُچھ مِلا
اے مُصوّر رہ گئی بس اِک کمی شہکار میں

جو ہُنر رکھتا ہے وہ روٹی کما لے گا ضرُور
دوستو طاقت بڑی رکھی گئی اوزار میں

شاعری تو خاک کر لیں گے مگر اِتنا ضرُور
فیضؔ کا سندیس گویا روزنِ دِیوار میں

جِس کی مرضی، جب، جہاں، جیسی بھی من مانی کرے
اِک ذرا سا دم کہاں باقی رہا سرکار میں

کیا حقِیقت پُوچھتے ہو، زِندگی اِک جبر ہے
درد بن کر خُون بہتا ہے تِرے فنکار میں

ہم اگر تذلِیل کی زد میں ہیں تو باعِث ہے یہ
حل کبھی ڈُھونڈا نہیں اقبالؔ کے افکار میں

آج اپنے فن کی لوگو قدر دانی کُچھ نہیں
کل ہمیں ڈُھونڈا کرو گے تُم قدِیم آثار میں

مصلِحت کا یہ تقاضہ تھا کہ ہم نے مان لی
جِیت پوشِیدہ کِسی کی تھی ہماری ہار میں

آخری شمعیں بھی اب تو پھڑپھڑا کے رہ گئِیں
مُنتظِر بیٹھے ہوئے ہیں ہم یہاں بےکار میں

وہ، تعلُّق جِس کی خاطِر سب سے توڑا تھا رشِیدؔ
لو چلا ہے وہ بھی ہم کو چھوڑ کر اغیار میں

رشید حسرتؔ

دیکھا ہے جو اِک میں نے وہی خواب بہُت ہے

دیکھا ہے جو اِک میں نے وہی خواب بہُت ہے
ورنہ تو وفا دوستو! کمیاب بہُت ہے

یہ دِل کی زمِیں بنجر و وِیران پڑی تھی
تھوڑی سی ہُوئی تُُجھ سے جو سیراب بہُت ہے

کل لب پہ تِرے شہد بھری بات دھری تھی
اور آج کے لہجے میں تو تیزاب بہُت ہے

اِک میں کہ نِگوڑی کے لیئے جان بکف ہوں
اِک جنسِ محبّت ہے کہ نایاب بہُت ہے

جب عہد کیا دِل نے کہ بے چین نہ ہوگا
پِھر کیا ہے سبب اِس کا کہ بےتاب بہُت ہے

کُچھ فرق نہِیں چاند رسائی میں نہِیں جو
تُو میرے لیئے اے مرے مہتاب بہُت ہے

کمزور عدُو کو ہی سمجھنا ہے تِری بُھول
بازُو میں تِرے مانتے ہیں تاب بہُت ہے

کچُھ اور کرُوں تُجھ سے بھلا کیسے تقاضہ
آنکھوں میں بسا رکھا ہے جو آب بہُت ہے

کہتا ہے تُجھے کون کہ تُو ٹُوٹ کے چاہے
حسرتؔ کے لِیئے اِک تِرا "آداب" بہُت ہے

رشِید حسرتؔ

وعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں


وعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں
سب ہے معلوم تُُجھے لوٹ کے آنا بھی نہِیں

رہنے دیتا ہی نہِیں تُو جو درُونِ دِل اب
اور مِرا دِل کے سِوا کوئی ٹِھکانہ بھی نہِیں

کِتنے جُگنو تھے، مِرے دوست ہُوئے گرد آلُود
اب مُجھے دِیپ محبّت کا جلانا بھی نہِیں

تِتلِیاں لب پہ مِرے کیسی یہ مُسکان کی ہیں
کھولنا تُجھ پہ نہِیں بھید، چُھپانا بھی نہِیں

اُس کی چُپ دِل کو مگر چِیر کے رکھ دیتی ہے
بات کرنے کا مِرے پاس بہانہ بھی نہِیں

میں نے اِک عُمر اِسی میں ہی لگا دی یارو
"اب تو یک طرفہ محبّت کا زمانہ بھی نہِیں"

یہ جو منسُوب ہے اِک درد کہانی مُجھ سے
سچ تو یہ ہے کہ کوئی جُھوٹا فسانہ بھی نہِیں

میں نے ہر بار محبّت کا بھرم رکھا ہے
اب کے رُوٹھا تو تِرے شہر پِھر آنا بھی نہِیں

اب کہِیں اور رشِؔید اپنا ٹِھکانہ کر لے
مجُھ کو اب درد کو سِینے سے لگانا بھی نہِیں

رشِید حسرتؔ۔

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close