قیدی کی سرگزشت

Shayari By

بدنصیب قیدی جیل خانے کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ چند گھنٹے پیشتر وہ آزادتھا۔ دنیا کی تمام راحتیں اسے حاصل تھیں۔ اس کا ہر مقصد تکمیل کی مسرت سے ہمکنار تھا اور ہر ایک آزاد کامیابی کی نشاط انگیزیو ں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، زندگی کے روشن و مصفّا راستے پر رواں دواں۔ یکایک عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر اس نے منصف کی خوفناک و لرزہ خیز آواز میں ’’حبس دوام‘‘ کی سزا کا حکم سنا۔ کچھ دیر کے لیے تو اسے معلوم ہی نہ ہواکہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کیا سن رہا ہے؟ اسے منصف کی خشمناک اور آتشیں نگاہیں جہنم کے دو دہکتے ہوئے شعلوں کی طرح نظر آ رہی تھیں اور اس کی گرجتی ہوئی آواز؟ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی سے ایک عظیم الہئیت پتھر گرتا ہوا ہول انگیز شور پیدا کر رہا ہے۔ ہتھکڑی کی جھنکار گونجی، اس کے ہاتھ لوہے کی وزنی زنجیرو ں میں جکڑ دیے گئے۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک خواب دیکھ رہا ہے، ایک خوفناک، دہشتناک خواب۔ کمرہ عدالت میں وکلا اور دوسرے حاضرین کی ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھتی ہوئی آنکھیں، اسے یوں نظر آ رہی تھیں گویا دور افق خونیں پرستارے آپس میں ٹکرانے کے لیے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ سپاہیوں کی حراست میں اس نے کمرے سےباہر نکلنے کے لیے قدم اٹھایا، دو تین گھنٹوں کے بعد اسے قید خانےکی آہنی سلاخوں میں پہنچا دیا گیا۔ ہتھکڑی اتار دی گئی۔ دوسرے قیدی تمسخر انگیز نظروں سے اسے دیکھنے لگے اور اپنی بھدی آواز میں اسے اشارے کر کرکے کچھ کہنے لگے۔ اس کے کانوں میں تمام آوازیں آتی تھیں مگر وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔ اس کی حالت دریا میں ڈوبتے ہوئے ایک ایسے انسان کی طرح تھی جس نے خود کو سہمگیں موجوں کے سپرد کر دیا ہو۔ آخرکار اسے سب سے آخری کوٹھڑی میں پہنچا دیا گیا۔ لوہے کی بڑی بڑی موٹی اور اونچی سلاخیں اس کے گرد کھڑی تھیں اور ایکطرف سلاخوں سے کچھ فاصلے پر سربفلک پہاڑوں کا سلسلہ جا رہا تھا۔ وہ متحیر نظروں سے سلاخوں کو دیکھنے لگا۔ ان پر ہاتھ رکھنے لگا۔ اس کی چاروں طرف آہنی سلاخیں تھیں، خوفناک اونچی اونچی آہنی صلاخیں اور بلند پہاڑ ان کے سوا اور کچھ بھی اسے نظر نہ آتا تھا۔
قیدی ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ دولت مند والدین نے اس کی تعلیم و تربیت میں خاص کوشش سے کام لیا تھا۔ اس کا والد ایک بہت بڑے عہدے پر فائز تھا اور اسے امید تھی کہ اس کا اکلوتا لڑکا بھی اپنی علمی صلاحیتوں کی بناپر حکومت کی نگاہوں میں خاص امتیاز حاصل کرےگا اور شہباز کی محنت پسندی نے بھی کبھی اپنے والد کےارادوں کو تقویت دینے میں کوتاہی نہیں کی تھی۔ یکایک ملک کی دوپارٹیوں میں فساد ہو گیا۔ شہباز ایک پارٹی میں شامل ہو گیا اور اپنے ساتھیوں کی نظروں میں خاص وقعت حاصل کرنے کے لیے اس نےمخالف پارٹی کے لیڈر کو موت کےگھاٹ اتار دیا۔ یہ تھا جرم جس کی پاداش میں اسے تمام عمر کے لیے لوہے کی سلاخوں میں دنیا کی تمام مسرتوں سے محروم کرکے، عزیزوں اور دوستوں سے جدا کرکے لایا گیا۔ اسے اس جرم کی پاداش میں پھانسی ملتی مگر اس کے باپ کی خدمات آڑے آئیں اور پھانسی کی سزا حبس دوام میں تبدیل ہو گئی۔

وہ کوٹھڑی میں گرد آلود، پھٹی پرانی چٹائی پر بیٹھ گیا۔ دو تین منٹ کے بعد اٹھا۔ اپنی پیشانی سلاخوں سے لگاکر باہر پہاڑوں کو دیکھنے لگا۔ آہ! ان پہاڑوں کے پیچھے خوشیوں سے بھری ہوئی دنیا تھی، وقت آہستہ آہستہ گزرتا جا رہا تھا۔ یہاں آئے ہوئے اسے پورے سات گھنٹے گزر چکےتھے۔ ان سات گھنٹوں میں اسے کیا کیا محسوس ہوا؟ تپش، پریشانی، خوف، بےچینی، وہ بار بار بھاگنے کا ارادہ کرتا، مگرسلاخیں اس کے سامنے آ جاتیں اور وہ اس خوابِ پریشاں سے چونک اٹھتا۔ متعدد بار اس نے سلاخوں پر ہاتھ رکھے، اپنے ہاتھ سلاخوں سے باہر نکالے، کیوں؟ کیونکہ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کا سلاخوں، پہاڑوں کے پیچھے بسنے والی روشن، رنگین نشاط انگیز و دلچسپ دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ کے لیے دنیا اور دنیا کے نظاروں سےمحروم کر دیا گیا ہے۔ تاہم غیرارادی طور پر ایسی حرکات اس سے سرزد ہو رہی تھیں۔ انسان بعض اوقات سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے دل کو تسکین دینے کے لیے عجیب و غریب مضحکہ خیز حرکات کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اب شام ہو چکی تھی۔ تاریکی کے دیوتا کے لمبے لمبے ناخن بڑھ بڑھ کر، روشنی کی قبا کے پرزے پرزے اڑا رہے تھے۔ ایک ایسے نو گرفتار پرندے کی طرح جو بیتاب ہوکر، قفس کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر، زخمی ہو ہو کر مایوسانہ گر رہا ہو، اس کی آرزوئیں، امیدیں بھی آہنی سلاخوں سے تصادم کر کرکے مایوسیوں کی صورت میں تبدیل ہو رہی تھیں، جیسے جیتے تاریکی بڑھتی جارہی تھی اس کی پریشانی بھی ترقی پذیر! بار بار وہ سلاخوں کے پاس جاتا پھر واپس آ جاتا، آخر چٹائی پر لیٹ گیا۔ پھر بےقرارانہ اٹھا اور مضطربانہ چلنے لگا۔ اس کی پیشانی سلاخوں سے ٹکرائی اور وہ بیہوش ہوکر گرپڑا۔ [...]

تعویذ

Shayari By

امی نہ رہیں تو صرف اتنا ہی ہوا نا کہ اپنے کمرے میں نہ رہیں۔ ہمارے گھر میں نہ رہیں۔ اس دم دمے میں بھی نہ رہیں جس کے زنانی دروازے سے سواری گھر جانے پر وہ پردہ داری کی لاج رکھتیں اور راہ گیروں کی نظروں سے خود کو چھپاکر چھپاک سے گھر کی چار دیواری میں ہوجاتیں۔
میں نے اب بے چوں و چرا یہ تسلیم کرلیا تھا کہ وہ ابا کے بعد کچھ دن رینگ کر چپ کے سے دنیا سے اٹھ گئیں۔ لیکن چھوٹم نہیں جانتا تھا، وہ کہتا تھا بھیا، امی ضرور ابا کے کمرے میں بند ہوگئی ہیں۔ میں ذرا اور بڑا ہوجاؤں تو قفل توڑ کر انہیں باہر نکال لاؤں۔

آج میرا پیاسا احساس مجھے سمجھاتا ہے کہ ہم لوگ شاید یہ اچھا نہیں کرتے۔ بچوں کے معصوم ذہن کو موت کے خیال سے اس طرح بچاتے ہیں، جیسے وہ جان جائیں تو ان کے ذہن پر موت کی پرچھائیں موت بن کر پڑے گی۔ چنانچہ چھوٹم کو زمانے تک امی کی قبر سے واقف نہیں کرایا گیا تھا بلکہ اس کو قبروں کی پہچان تک نہیں تھی۔ مجھے اپنے بڑوں کی یہ حرکتیں بہت اکھرتی تھیں۔ میں صرف سوچ کر رہ جاتا تھا۔ خود بھی اتنی اہلیت نہیں رکھتا تھا کہ انہیں یہ بتاؤں کہ موت کے تصور کے بغیر زندگی کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا حسن نکھرتا ہی اس تصور سے ہے۔ تتلی کے پر،پردوں پر اپنا رنگ نہ چھوڑ جائیں تو وہ پلاسٹک کی ہوجائے گی۔ موت کو ہم نے خوفناک بنا رکھا ہے ورنہ وہ تو زندگی پر ایسی رنگ برنگی چھینٹ اڑاتی ہے کہ کبھی کبھی اس کے آنچل کا سایہ زندگی کو سنوار دیتا ہے۔ شاید یہ بھی اپنا اپنا سوچنے کا انداز ہو۔ لیکن ایسا بھی کیا کہ جس ہونی کا نہ ہونا ممکن نہیں، جس کا زندگی سے چولی دامن کا ساتھ ہو اس کا ایک حصہ چھپاکر زندگی کو معصوموں کے ہاتھ میں تھما دینا کہ لو اس سے کھیلو۔ بھلا یہ کھیل کتنے دن کھیلا جاسکتا ہے۔
امی کی کھلی آنکھوں پر ابھی کسی ہاتھ نے پیوٹے نہیں ڈھانکے تھے کہ چھوٹم کو رشتے داروں میں کہیں دور بھجوا دیا گیا۔ میرے ساتھ یہ سازش کوئی کر نہ سکا۔ امی جب گھر سے جانے لگیں تو ٹیس اٹھی اور میں بین کرتی عورتوں اور انتظام میں مصروف مردوں کی دھکا پیل سے بچ نکلا۔ اپنے سانس کو قابو میں کرنے سے پہلے ہی میں نے خود کو ایک ایسی موٹر کار کی پچھلی سیٹ پر چھپا لیا جو امی کے ساتھ جانے والی موٹروں کی قطار میں شامل تھی۔ مجھے یقین ہوا کہ امی نے ہی کارکاپٹ کھول کرمجھے اندر دھکیل دیا ہوگا۔ وہ ہماری خدمت کا کچھ ایسا ہی طریقہ نکال لیتی تھیں کہ صرف ان کو معلوم ہو اور ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ وہ ہمیں محفوظ کر رہی ہیں۔ [...]

خاندانی کرسی

Shayari By

ایئرپورٹ سے نکل کر جب وہ لاہور کی وسیع، شاداب اور خوبصورت سڑکوں سے اپنے بھتیجے کے ساتھ گزرنے لگا تو اسے انیس برس کے پرانے لاہور اور موجودہ لاہور میں کوئی خاص فرق محسوس نہ ہوا۔ کوئی بھی ایسی تبدیلی اسے نظر نہ آئی جو پرانے لاہور سے نئے لاہور کو الگ کرتی۔ وہی سب کچھ تو تھا جو وہ کبھی کبھی کسی دوست سےملنے یا صرف سیر و تفریح کی خاطران سڑکوں پر، گھومتے ہوئے ان سڑکوں کے دو رویہ کھڑے ہوئے درختوں پر اور ان بارونق دکانوں پر بارہا دیکھ چکا تھا۔
اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے اور پورے انہماک سے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کےجوان سال بھتیجے نے اس کے خیالات کا جائزہ لے لیا تھا اور اب اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

’’انکل! شاید آپ سوچ رہے ہیں کہ لاہور تو وہی ہے۔‘‘
’’ہاں انور کچھ ایسی ہی سوچ میرے ذہن میں ہے۔‘‘ [...]

ماں کا دل

Shayari By

ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔سٹوڈیو میں حسب معمول ہنگامہ تھا۔ ہیرو کے سر پرنقلی بالوں کی ’’وِگ‘‘ بٹھائی جارہی تھی۔۔۔ ہیروئن بار بار آئینہ میں اپنی لپ سٹک کا معائنہ کر رہی تھی۔ ڈائریکٹر کبھی ڈائیلاگ رائٹر سے الجھ رہا تھا تھا کبھی کیمرہ مین سے۔ پروڈکشن منیجر اکسٹرا سپلائر سے ایک کونے میں اپنی کمیشن طے کر رہا تھا۔
کیمرہ مین کے اسسٹنٹ نے روشنیوں کے کالےشیشے میں سے دیکھ کر کیمرہ مین سے کہا ’’شاٹ ریڈی۔‘‘ کیمرہ مین نے اپنےکالے شیشے میں سے سین کامعائنہ کرکے ڈائرکٹر سے چلا کر کہا،’’شاٹ ریڈی۔‘‘ ڈائرکٹر نے ہیرو کی کرسی کے پاس جاکر دھیرے سے کہا،’’شاٹ ریڈی۔‘‘ ہیرو نے بڑے اطمینان سے سگریٹ کا کش لیا۔ پھر دو آئینوں میں اپنے سر کو آگے پیچھے سے دیکھا۔ وگ کو دو تین بار تھپ تھپایا۔ نقلی بالوں کی ایک لٹ کو ماتھے پر گرایا اورکرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی طرف دیکھ کر (جوڈائلاگ کا فائل لیے کھڑا تھا) ہیرو نے پوچھا،’’پکچر کون سی ہے؟‘‘

’’ماں کا دل۔‘‘
’’سین کون سا ہے؟‘‘ [...]

شہید آزادی

Shayari By

ضرورت ہے،
’’ایک تعلیم یافتہ، سلیقہ مند، خوشرو نوجوان لڑکی کے لیے ایک شوہر کی جو تمام مردانہ خصوصیات تعلیم کے ساتھ کم از کم پانچ سو روپیہ ماہوار کی آمدنی کا مالک اور حسنِ ظاہری کے ساتھ ادبی ذوق بھی رکھتا ہو۔ تصویریں مطلوب ہیں۔‘‘

ہرچند رشید اشتہاری شادی کا موافق نہ تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ اس طرح شوہر کی تلاش کرنا گویا لڑکی کو نیلام میں رکھ دینا ہے، یا پھر اپنے آپ کو سخت امتحان میں مبتلا کر دینا، اس لیے جب اس نے ایک اخبار میں یہ اشتہار دیکھا تو تھوڑی دیر کے لیے اس نے خیالی لذت تو ضرور حاصل کر لی، لیکن کوئی خلش اپنے دل میں پیدا نہیں کی۔ اخبار دیکھ کر وہیں میز پر رکھ دیا اور اپنے کاروبار کے کاغذات دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔
رشید نہ صرف ’’تعلیم‘‘ کے تازہ ترین مفہوم کے لحاظ سے ’’تعلیم یافتہ‘‘ تھا بلکہ ا پنے اخلاق و آداب کے اعتبار سے بھی وہ ایک بلند سیرت کا انسان تھا۔ کالج سے نکلنے کے بعد اس کے والد نے بہت کوشش کی کہ سرکاری ملازمت اختیار کرے لیکن اس نے ہمیشہ اس خواہش کو رد کر دیا اور آخر کار ایک مختصر سرمایہ سے اس نے ’’میل آرڈر بزنس‘‘ دہلی میں شروع کر دیا۔ [...]

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close