اداسیوں کا مسلسل نزول اب بھی ہے ...
تمہارے بارے میں مجھ سے سوال کرتے ہوئے ...
تم سے بچھڑے تو کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے ...
تھکن سے جسم مرا جب بھی ٹوٹ جائے گا ...
تسلیم کر رہا ہوں کہ تیرا رقیب ہوں ...
تمنا کا بدن بکھرا پڑا ہے ...
تعلقات کی یہ روشنی ہے کتنی دیر ...
سکوت عشق میں ڈوبا ہوا وہ اک لڑکا ...
سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے ...
سلیقے سے اگر توڑیں تو کانٹے ٹوٹ جاتے ہیں ...
سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے ...
سب ٹھیک ہے کہنے کو محبت کی کمی ہے ...
رنگ برنگے نقش ابھر کر تیر رہے ہیں پانی پر ...
پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے ...
نظر کے سامنے گزرے ہوئے زمانے ہیں ...
نئی نسلوں سے اس کو بھی کبھی عزت نہیں ملتی ...
محبتوں کو کہیں سے مدد نہیں ملتی ...
محبتوں کے مزے تو نے کچھ کمائے نہیں ...
محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے ...
محبت دوستوں شبنم بھی چنگاری بھی ہوتی ہے ...